Codex Gigas کو کبھی مکمل طور پر اردو یا عربی میں ترجمہ نہیں کیا گیا، لیکن اس کے جادو اور طب کے حصوں میں کچھ وہی ترکیبیں ہیں جو اسلامی سنہری دور (عربی طبی کتب) میں پائی جاتی ہیں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ علمِ طب اور فلسفہ دنیا کے مختلف حصوں میں کیوں منتقل ہوا۔
کوڈیکس گیگاس (Codex Gigas) دنیا کے پراسرار ترین اور دیوہیکل ترین تاریخی مسودات میں سے ایک ہے۔ اسے عام طور پر "شیطان کی بائبل" (Devil's Bible) کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ تیرہویں صدی عیسوی کا ایک ایسا مکتوب ہے جو اپنے سائز، مواد اور اس سے جڑی خوفناک داستانوں کی وجہ سے صدیوں سے انسانوں کے لیے شدید تجسس کا باعث بنا ہوا ہے۔
اس کا وزن تقریباً 75 کلوگرام ہے، جو اسے اس دور کی سب سے وزنی کتاب بناتا ہے۔ صفحات:
کوڈیکس گیگاس کو پڑھنا یقیناً ایک عجیب و غریب تجربہ ہوگا، لیکن اسے سمجھنے کی کوشش کرنا اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ یہ قرونِ وسطیٰ کی فکری اور روحانی دنیا کی ایک کھڑکی ہے۔ اس کے گرد موجود علامات اور افسانے اسے ہمیشہ زندہ رکھیں گے، جبکہ اس کے صفحات میں چھپا علم اور اس کے وجود کی حقیقت ہمیں اپنی تہذیب اور تاریخ کی وسعتوں سے روشناس کراتی ہے۔ codex gigas book in urdu
Acceptable for a basic story, but . The lack of a proper Urdu translation or academic Urdu book leaves serious learners dependent on English sources.
کوڈیکس گیگاس کی فزیکل بناوٹ اپنے آپ میں ایک عجوبہ ہے۔ سائنسدانوں اور تاریخ دانوں نے اس کتاب کے سائز اور وزن کے حوالے سے درج ذیل حقائق بیان کیے ہیں:
یہ کتاب 160 گدھوں یا بچھڑوں کی کھال سے بنے صفحات (Vellum) پر لکھی گئی ہے۔ Codex Gigas کو کبھی مکمل طور پر اردو
جب آدھی رات گزری اور راہب کو احساس ہوا کہ وہ اکیلا یہ کام صبح تک کبھی پورا نہیں کر سکتا، تو اس نے خدا کے بجائے سے مدد مانگی۔ شیطان نے ایک شرط پر اس کی مدد کرنا قبول کی: کتاب صبح تک مکمل ہو جائے گی، لیکن اس میں شیطان کی ایک بڑی تصویر بنائی جائے گی تاکہ دنیا کو اس کی طاقت کا اندازہ ہو سکے۔ راہب نے شرط مان لی، اور صبح ہونے سے پہلے یہ عظیم الشان کتاب تیار ہو گئی۔ شکرانے کے طور پر، راہب نے کتاب کے ایک پورے صفحے پر شیطان کی ایک خوفناک تصویر بنائی۔
اس کتاب کے بارے میں سب سے مشہور کہانی 13ویں صدی کی ہے۔ چیک شہر پراگ کے قریب (Podlažice) کی خانقاہ میں ایک راہب رہتا تھا۔ راہب نے اپنے مافوق (Abbot) کی نافرمانی کی۔ سزا یہ تھی کہ اسے زندہ دیوار میں چن دیا جائے گا۔
ماہرین کا تخمینہ ہے کہ اگر ایک انسان روزانہ مسلسل کئی گھنٹے بغیر رکے لکھے، تو اس طرح کی دیوہیکل اور خوبصورت خطاطی والی کتاب کو مکمل کرنے میں کم از کم کا عرصہ درکار ہوگا۔ اس تحقیق نے اس افسانے کو مزید ہوا دی کہ شاید واقعی یہ کتاب کسی غیر معمولی طریقے سے لکھی گئی تھی، کیونکہ کسی انسان کا 30 سال تک ایک ہی ذہنی کیفیت اور ایک ہی جیسے ہاتھ کے دباؤ کے ساتھ لکھنا ناممکن حد تک مشکل ہے۔ کتاب کے اندر کیا لکھا ہے؟ codex gigas book in urdu
کوڈیکس گیگاس صرف ایک کتاب نہیں بلکہ قرون وسطیٰ کے انسان کی سوچ، خوف، مذہب اور علم کا ایک بہترین عکس ہے۔ چاہے یہ شیطان کی مدد سے لکھی گئی ہو یا کسی گوشہ نشین راہب کی زندگی بھر کی محنت کا نچوڑ ہو، یہ مکتوب انسانی تاریخ کے عظیم ترین عجائبات میں شمار ہوتا ہے۔ آج یہ نایاب کتاب سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں واقع نیشنل لائبریری آف سویڈن میں انتہائی سخت سیکیورٹی میں محفوظ ہے۔
یہ تقریباً 3 فٹ (92 سینٹی میٹر) لمبی اور 20 انچ چوڑی ہے۔
اگر آپ تاریخ، اسرار اور قدیم کتابوں میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو کوڈیکس جیگاس کا مطالعہ آپ کو ایک سحر انگیز دنیا میں لے جاتا ہے۔
We may use cookies to give you the best experience. If you do nothing we'll assume that it's ok.
Some of our advertising partners, as Google Adsense, may use cookies and web beacons on our site.
These third-party ad servers or ad networks use technology to the advertisements and links that appear on this website send directly to your browsers. They automatically receive your IP address when this occurs. Other technologies (such as cookies, JavaScript) may also be used by the third-party ad networks to measure the effectiveness of their advertisements and / or to personalize the advertising content that you see.
You should consult the respective privacy policies of these third-party ad servers for more detailed information on their practices.
If you wish to disable cookies, you may do so through your individual browser options.